نمازِ استسقا کا وقت

سوال 114841

میں نمازِ استسقاء کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں: کیا اسے نمازِ عید کی طرح سورج طلوع ہونے کے وقت کے علاوہ کسی اور وقت میں بھی ادا کیا جا سکتا ہے؟ مثلاً ظہر، مغرب یا عشاء کے بعد؟

جواب کا خلاصہ

جمہور فقہاء کے نزدیک نمازِ استسقا اوقاتِ کراہت کے علاوہ کسی بھی وقت ادا کی جا سکتی ہے۔ البتہ اگر استسقا صرف دعا کے ذریعے ہو تو وہ ہر وقت جائز ہے۔

متعلقہ جوابات

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

استسقاء اگر صرف دعا کی صورت میں ہو تو ہر وقت جائز ہے، اور اگر نماز کے ساتھ ہو تو جمہور فقہاء کے نزدیک اوقاتِ کراہت کے علاوہ تمام اوقات میں جائز ہے۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ ’’المغنی‘‘ (3/337)میں فرماتے ہیں:

’’نمازِ استسقاء کے لیے کوئی معین وقت مقرر نہیں، البتہ اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ اسے ممنوعہ اوقات میں ادا نہیں کیا جائے گا؛ کیونکہ نماز استسقا کا وقت وسیع ہے، لہٰذا ممنوعہ اوقات میں ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور بہتر یہ ہے کہ اسے نمازِ عید کے وقت ادا کیا جائے؛ کیونکہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نکلے جب سورج کا کنارہ ظاہر ہوا۔ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے۔ نیز اس لیے کہ نمازِ استسقاء مقام اور کیفیت کے اعتبار سے نمازِ عید سے مشابہ ہے، لہٰذا وقت کے اعتبار سے بھی اس کے مشابہ ہوگی۔ البتہ سورج ڈھل جانے سے اس کا وقت فوت نہیں ہوتا؛ کیونکہ اس کے لیے کوئی مخصوص دن مقرر نہیں، اس لیے اس کے لیے کوئی مخصوص وقت بھی مقرر نہیں۔‘‘ ختم شد

امام نووی رحمہ اللہ ’’المجموع‘‘ (5/77)میں فرماتے ہیں:
’’نمازِ استسقاء کے وقت کے بارے میں تین آرا ہیں:

  • پہلی رائے: اس کا وقت وہی ہے جو نمازِ عید کا وقت ہے۔۔۔
  • دوسری رائے: اس کا وقت نمازِ عید کے ابتدائی وقت سے شروع ہوتا ہے اور عصر پڑھنے تک رہتا ہے۔۔۔
  • تیسری رائے:— اور یہی صحیح بلکہ راجح ہے — کہ یہ کسی خاص وقت کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ رات اور دن کے ہر وقت میں جائز اور صحیح ہے، سوائے اوقاتِ کراہت کے، ایک قول کے مطابق۔ یہی امام شافعی کا منصوص موقف ہے، اسی پر جمہور شافعیہ نے قطعی موقف بیان کیا ہے، اور محققین نے اسی کو صحیح قرار دیا ہے۔‘‘ مختصراً ختم شد

’’الموسوعۃ الفقہیۃ‘‘ (3/308)میں ہے:

’’اگر استسقاء صرف دعا کے ذریعے ہو تو اس کے کسی بھی وقت ہونے میں کوئی اختلاف نہیں، اور اگر نماز اور دعا دونوں کے ساتھ ہو تو سب کا اس پر اتفاق ہے کہ اوقاتِ کراہت میں اسے ادا کرنا ممنوع ہے۔ اور جمہور کا موقف یہ ہے کہ اوقاتِ کراہت کے علاوہ ہر وقت جائز ہے۔ ان کے درمیان اختلاف صرف افضل وقت کے تعین میں ہے۔ البتہ مالکیہ کا کہنا ہے کہ اس کا وقت چاشت کے وقت سے زوال تک ہے، لہٰذا نہ اس سے پہلے پڑھی جائے گی اور نہ اس کے بعد۔‘‘ ختم شد

اس سے معلوم ہوا کہ نمازِ استسقاء ظہر، مغرب یا عشاء کے بعد بھی پڑھی جا سکتی ہے۔

مزید وضاحت کے لیے درج ذیل جوابات ملاحظہ کریں: (9364، 182416، 138046 اور 118864)

واللہ اعلم

حوالہ جات

مختلف مواقع پر نماز

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android