6,484

قبروں پرميت كے متعلق معلومات لكھنے كا حكم

سوال: 9986

كيا قبر پر لوہے وغيرہ كا كتبہ لگانا جائز ہے، جس پر قرآنى آيات اور ميت كا نام اور تاريخ وفات ..... الخ لكھى ہوئى ہو.. ؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

قبر پر لكھنا جائز نہيں، نہ تو قرآنى آيات اور نہ ہى كوئى چيز لكھنا، نہ تو لوہے كا كتبہ لگايا جا سكتا ہے اور نہ ہى لكڑى وغيرہ كا، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے اس كى ممانعت ثابت ہے.

جابر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

"رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے قبر پختہ كرنے اور اس پر بيٹھنے اور اس پر تعمير كرنے سے منع فرمايا"

اسے امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے صحيح مسلم ميں روايت كيا ہے.

اور ترمذى اور نسائى رحمہما اللہ تعالى نے صحيح سند كے ساتھ مندرجہ ذيل الفاظ زيادہ روايت كيے ہيں:

" اور يہ كہ قبر پر لكھا جائے" .

حوالہ جات

ماخذ

مجموع فتاوى و مقالات متنوعۃ فضيلۃ الشيخ عبد العزيز بن عبد اللہ بن باز رحمہ اللہ تعالى ( 9 / 378 )

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android