مونچھیں کاٹنے یا مکمل صاف کرنے کا حکم

سوال 98500

میں اپنی مونچھیں اتنی چھوٹی کر دیتا ہوں کہ وہ نظر نہیں آتیں۔ کیا یہ جائز ہے؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

علمائے کرام  کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مونچھوں کو ہلکا کرنا سنت ہے، کیونکہ اس بارے میں بہت سی احادیث آئی ہیں، جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (داڑھیوں کو بڑھاؤ اور مونچھوں کو اچھی طرح کاٹو) (بخاری، حدیث نمبر: 5442)
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جس نے اپنی مونچھوں کو بالکل نہ کاٹا تو وہ ہم میں سے نہیں) (ترمذی، حدیث نمبر: 2685)۔امام البانی نے اس حدیث کو "صحیح ترمذی" میں صحیح قرار دیا ہے۔

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’جہاں تک مونچھوں کے کاٹنے کا تعلق ہے، اس کے سنت ہونے پر اجماع ہے‘‘ ختم شد
(المجموع 1/340)

تاہم اہلِ علم کے درمیان اس بات میں اختلاف ہے کہ کس قدر مونچھوں کو چھوٹا کیا جائے؟
چنانچہ امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’لوگوں میں مونچھوں کے کاٹنے کی حد کے بارے میں اختلاف ہے۔ بہت سے سلف کا قول ہے کہ اسے بالکل صاف کر دینا  چاہیے اور مونڈ دینا چاہیے، کیونکہ حدیث میں ’احفوا‘ اور ’انهكوا‘ کے الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ یہی قول اہلِ کوفہ (یعنی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اصحاب) اور امام احمد کی ایک روایت ہے۔ جبکہ بہت سے اہلِ علم نے مونڈنے اور بالکل صاف کرنے سے منع کیا ہے، اور یہی امام مالک کا قول ہے، نیز امام شافعی اور امام احمد سے ایک روایت بھی اسی پر ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے مونچھیں مونڈنے کو سخت ناپسند کیا ہے اور اسے مثلہ  کے حکم میں قرار دیا ہے، اور فرمایا کہ یہ بدعت ہے جو لوگوں میں پھیل گئی ہے، اور اپنی مونچھیں مونڈنے والے کو جسمانی سزا دینی چاہیے۔ امام نووی نے ’’المجموع‘‘ میں اور ابن قیم نے ’’زاد المعاد‘‘ میں امام مالک سے یہی منقول کیا ہے۔
البتہ جمہور علما اس کے خلاف ہیں، ان کے نزدیک مونچھوں کو مونڈنے یا کاٹنے میں کوئی حرج نہیں، یہ الگ بات ہے  کہ اہل علم کا ان دونوں میں سے افضل عمل کے بارے میں اختلاف ہے کہ ان میں سے کون سا عمل افضل ہے۔‘‘ ختم شد

امام مرداوی حنبلی فرماتے ہیں:
’’آدمی کو چاہیے کہ یا تو اپنی مونچھ اچھی طرح کاٹے یا صرف مونچھوں کے کنارے ہلکے کرے،  تاہم احفاء (یعنی اچھی طرح کاٹنا) زیادہ بہتر ہے۔‘‘  (الإنصاف 1/121)۔

ابن قیم رحمہ اللہ نے ’’زاد المعاد‘‘ (1/171) میں نقل کیا ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’اگر کوئی مونچھ اچھی طرح کاٹ دے تو کوئی حرج نہیں، اور اگر صرف تراش دے تو بھی کوئی حرج نہیں۔‘‘
امام احمد کا استدلال یہ ہے کہ احادیث میں دونوں الفاظ، ’’الإحفاء‘‘ (پوری طرح کاٹنے) اور ’’القص‘‘ (تراشنے) دونوں آئے ہیں۔

لہٰذا سائل بھائی کے لیے اس میں کوئی حرج نہیں جو اس نے کیا، البتہ بہتر یہ ہے کہ مونچھ اس طرح کاٹے کہ ہونٹ کا کنارہ ظاہر ہو جائے، اور مکمل طور پر صاف نہ کرے، کیونکہ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا عمل تھا۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اپنی مونچھ تراشا کرتے تھے‘‘  (مسند احمد: 2733) شیخ احمد شاکر رحمہ اللہ نے فرمایا: اس کی سند صحیح ہے۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

فطرتی سنتیں

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android