5,303

گھر كى تعمير كے ليے زكاۃ پيش كرنے كا حكم

سوال: 9246

ہمارا ايك بوڑھا چچا ہے، اور وہ كام بھى نہيں كر سكتا، اس كى اولاد زيادہ ہے، جو كہ ايك گاؤں كے كچے سے ملكيتى مكان ميں رہائش پذير ہے، اور اسى بستى ميں اسے گورنمنٹ كى طرف سے ايك پلاٹ الاٹ ہوا ہے، جہاں وہ اپنى رہائش كے ليے عمارت تعمير كرنا چاہتا ہے.

كيا اس عمارت كى تعمير كے ليے زكاۃ جمع كرنى جائز ہے، اور اگر جائز نہيں تو پھر اس جمع كردہ مال كا كيا جائے ؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اس زمين ميں عمارت تعمير كرنے كے ليے زكاۃ جمع كرنى جائز نہيں، كيونكہ اس كے پاس رہائش كے ليے مكان ہے، پھر اگر فرض كريں كہ اس كے پاس كرايہ ادا كرنے كے ليے بھى كچھ نہ ہو تو پھر زكاۃ ميں سے اسے كرايہ پر مكان لے كر دينا جائز ہے، كيونكہ مكان كى تعمير كے ليے بہت زيادہ مال كى ضرورت ہے، اور مسلمانوں ميں سے بہت سے لوگ كھانے پينے سے بھى محتاج ہيں، نہ كہ ذاتى گھر كے.

اور آپ نے جو كچھ جمع كيا ہے ميرى رائے تو يہى ہے كہ وہ ان كے مالكوں كو واپس كر دى جائيں.

شيخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ كا فتوى .

حوالہ جات

ماخذ

ماخوذ از: مجلۃ الدعوۃ عدد نمبر ( 1762 ) صفحہ ( 37 )

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android