یہ بات بالکل واضح ہے کہ صحیح، ضعیف اور من گھڑت روایات میں تفریق کے لیے اسانید کا کردار بنیادی اور اہم ترین ہے۔
امام حاکم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر سند محفوظ نہ ہوتی، محدثین سندیں تلاش کر کے یاد نہ کرتے، پھر اسے یاد کرنے کے لیے مسلسل دہرائی نہ کرتے تو اسلام کی روشنی مندمل ہو جاتی، ملحد اور بدعتی لوگوں کو احادیث گھڑنے کا موقع مل جاتا، یہ لوگ اسانید کو آسانی سے تبدیل کر دیتے ؛ کیونکہ اگر احادیث کی سندیں نہ ہوتیں تو بے بنیاد اور بے اصل کہلاتیں۔" ختم شد
"معرفة علوم الحديث" (ص 115)
قاضی عیاض رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"پہلے تو یہ بات ذہن نشین کریں کہ: حدیث کا دار و مدار سند پر ہے، سند کے ذریعے ہی حدیث کے صحیح اور متصل ہونے کا علم ہوتا ہے ۔" ختم شد
"الإلماع" (ص267)
تو اس سے معلوم ہوا کہ احادیث کا متن جن اسانید کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے انہیں یاد کرنا ہر ایک کے لیے ضروری نہیں ہے، ہاں جو شخص علم حدیث کا ماہر بننا چاہتا ہے تو وہ انہیں یاد کرے گا، تا کہ صحیح اور ضعیف احادیث میں امتیاز کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکے، تو ماہرین علوم حدیث کے پاس اسانید کا علم ہونا چاہیے یا تو انہیں یاد کرے، یا پھر با سند روایت بیان کرنے والی کتب حدیث کا مطالعہ کرتا رہا کرے، اسی طرح ایک روایت کے متعدد اسانید کے ساتھ آنے والے متون کو تلاش کرے تا کہ حدیث کے راویوں کی معرفت حاصل ہو، اسی لیے علم رواۃ سے عاری شخص علم حدیث کا ماہر نہیں ہو سکتا چاہے اسے کتنی ہی احادیث کے متن یاد ہوں۔
الشیخ عبد الرحمن بن یحیی معلمی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"پہلے وقتوں میں اس وقت تک کسی کو عالم نہیں کہا جاتا تھا جب تک اسے حدیث کے راویوں کے حالات معلوم نہ ہوں، چنانچہ تدریب الراوی میں ہے کہ : علامہ رافعی اور دیگر کہتے ہیں: اگر کسی نے علمائے کرام کے لیے کوئی چیز وصیت کی تو یہاں وہ لوگ شامل نہیں ہوں گے جو حدیث کا متن تو سنتے ہیں لیکن انہیں حدیث کی سندوں اور راویوں کے ناموں کا علم نہیں ہے۔۔۔
اسی طرح علامہ زرکشی رحمہ اللہ کہتے ہیں: فقہائے کرام کے ہاں محدث اسے کہتے ہیں جو حدیث کے متن کا زبانی حافظ ہو، نیز احادیث کے راویوں کی جرح اور تعدیل بھی جانتا ہو۔۔۔
تاج الدین سبکی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ۔۔۔ محدث تو اسے کہتے ہیں جسے سندیں یاد ہوں، علل اور اسماء الرجال یاد ہوں۔۔۔
علامہ مزی کے حوالے سے ذکر کیا کہ: ان سے پوچھا گیا "حافظ الحدیث" لقب کا مستحق کون ہوتا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ: کم از کم اس کی حد بندی یہ ہے کہ جن راویوں کے اسے حالات معلوم ہیں ان کی تعداد ان سے کم ہونی چاہیے جن کے حالات اسے معلوم نہیں ہیں۔ تا کہ حافظ کا لقب اکثریت کو مد نظر رکھ کر دیا جائے۔
تو پہلے عالم اسے کہتے تھے جو ان لوگوں کے حالات جانتا ہو جن کو اس نے خود دیکھا، یا تو بذات خود انہیں پرکھ چکا ہو ، یا کوئی ثقہ شخص ان کے بارے میں بتلا دے، اسی طرح ان لوگوں کے حالات بھی اسے معلوم ہوں جو پہلے گزر چکے ہیں، یا تو ثقہ لوگوں کے براہ راست بتانے کی وجہ سے یا پھر ثقہ لوگوں کے شاگردوں کے بتلانے کی وجہ سے معلوم ہوں۔ اور یہ سلسلہ اوپر تک چلتا جائے اور ان تمام کے حالات زبانی یاد ہوں جیسے کہ حدیث کے متن کے ساتھ اس کی سند بھی زبانی یاد ہوتی ہے، چنانچہ بعض تو ایسے محدث بھی تھے جنہیں ہزاروں سندیں یاد تھیں اور کچھ کو دس ہزار، کچھ کو لاکھوں روایات بمع اسانید یاد تھیں۔" ختم شد
"محاضرة في علم الرجال وأهميته - ضمن آثار المعلمي" (15 / 227)
یہاں یہ بات بھی واضح ہو جائے کہ حدیث کی سند اسی طرح یاد کی جائے جیسے کتب حدیث میں موجود ہے، محض لوگوں کے نام یاد نہ کروائے جائیں، اس تفصیل کے ساتھ متعدد امور تعلق رکھتے ہیں، ان میں سے اہم ترین درج ذیل ہیں:
پہلا: سند سمیت حدیث جیسے کہ کتب حدیث میں موجود ہے یاد کرنے سے حدیث کا حکم صحیح یا ضعیف یاد رکھنے میں مدد ملے گی۔
دوسرا: کتب حدیث میں جس طرح بمع سند احادیث موجود ہیں انہیں اسی حالت میں یاد کرنے سے اسانید کے حافظ شخص کو راویوں کے طبقات کے متعلق بھی معلومات مل جائیں گی، اس طرح راوی کے اساتذہ اور شاگردوں کا بھی علم ہو جائے گا، طبقات الرواۃ کی معرفت علم حدیث کے متخصص افراد کے لیے نہایت ضروری ہے، اس سے متعدد پیچیدہ مسائل بھی خود بخود حل ہو جاتے ہیں۔
علامہ عراقی رحمہ اللہ کہتے ہیں :
"طبقات الرواۃ کی معرفت بہت اہم ہے؛ کیونکہ ایسا ممکن ہے کہ دو نام ایک جیسے ہوں، تو دونوں ایک دوسرے کی جگہ سمجھے جا سکتے ہیں، لیکن طبقات کی معرفت کی وجہ سے مسئلہ حل ہو جائے گا کہ اگر دونوں الگ الگ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں تو معاملہ آسان ہے، جبکہ ایک ہی طبقہ ہونے کی وجہ سے تھوڑی مشکل ہو گی، لیکن پھر بھی استاد اور شاگرد کے ناموں سے پہچانا جا سکتا ہے، کیونکہ ایسا ممکن ہے کہ دو ایک جیسے ناموں والے افراد کے استاد اور شاگرد الگ الگ ہوں، لیکن مسئلہ اس وقت مزید پیچیدہ ہو جائے گا جب استاد اور شاگرد کے نام بھی ایک جیسے ہوں۔ بہ ہر حال ماہرین فن پھر بھی انہیں الگ الگ کر لیتے ہیں۔۔۔
طبقات الرواۃ کے متعلق علم نہ ہونے کی وجہ سے متعدد مصنفین کو غلطیاں بھی لگی ہیں، بسا اوقات یکساں نام کی وجہ سے کسی اور کو اس نام کا مسمی سمجھ لیا ، یا کسی طبقے کے راوی کو اٹھا کر غلطی سے کسی اور طبقے میں ڈال دیا۔" ختم شد
"شرح التبصرة والتذكرة" (2 / 342 - 343)
تیسرا: سند کو یاد کرتے ہوئے صیغ التحمل، والادا کا خصوصی اہتمام کرنا ہے، ان سے سماع کی تصریح ہو جاتی ہے، یا کسی حدیث اور واقعہ کو بیان کرتے ہوئے سماع کی تصریح ، یا عدم تصریح، یا عنعنہ پر اکتفا ہو سکتا ہے۔ ان تمام کاموں سے حافظ شخص کے پاس اتنا بڑا ملکہ پیدا ہو جائے گا کہ متصل اور منقطع روایات میں تفریق کر سکے گا۔
خلاصہ کلام:
متون حدیث کو یاد کرتے ہوئے راویوں کے نام بھی یاد کرنا سلَف و خلَف محدثین کا وتیرہ رہا ہے، پھر ان کی اس محنت کا فائدہ بھی ہوا۔ تو عقل مند شخص اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کو ضائع ہونے سے بچاتا ہے، اور ان اوقات میں مفید اور نافع سرگرمیوں مصروف رہتا ہے۔
لیکن یہ سب باتیں اس علم کے متخصص اور ماہرین کے حوالے سے ہیں، یا ایسے شخص کے بارے میں ہیں جو علوم الحدیث میں مہارت کا درجہ پانا چاہتا ہے، اور اگر کوئی شخص عوام الناس سے تعلق رکھتا ہو تو وہ جہاں تک ہو سکے متن حدیث یاد کر لے ، پھر اس متن کا مطالعہ بھی کرے، اور اسے سمجھتے ہوئے باہمی مذاکرہ بھی کریں۔
واللہ اعلم