3

بچے والدین کے خلاف بغاوت کیوں کرتے ہیں اور اس سے کیسے نمٹا جائے؟

سوال: 270306

میں ایک اہم معاملے پر بات کرنا چاہتا ہوں کہ بعض اوقات بچے اپنے والد کے حالات کا خیال نہیں کرتے۔ میری عمر تئیس سال ہے اور میرے بہن بھائی بھی ہیں ان میں سے میری ایک بہن کی عمر بیس سال ہے لیکن اسے میرے والد کے حالات کی کوئی پرواہ نہیں۔ میرے والد صاحب مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن اس کی فرمائشیں پوری ہونے کا نام نہیں لیتیں! اس کا کہنا ہے کہ مجھے نہیں پتا میری فرمائش کیسے پوری کی جائے چاہے اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے میری فرمائش پوری ہونی چاہیے! اللہ کی قسم، میرے والد اپنے بچوں کے بارے میں اپنی پریشانیوں اور اس صورتحال کی وجہ سے بہت تکلیف سے گزر رہے ہیں ۔اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ ایسے بچوں کو کیا مشورہ دے سکتے ہیں؟ کیا یہ والدین کی نافرمانی ہو گی؟ یا اس کو کچھ اور کہیں گے؟ واضح رہے کہ ہماری یہ بہن مختلف وجوہات کی بنا پر میرے والد سے ناراض بھی ہو جاتی ہے، اب اس ساری صورتحال میں مجھے نہیں معلوم کہ اس کے ساتھ کیا برتاؤ رکھا جائے؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:

ماں باپ میں سے کسی ایک یا دونوں کے ساتھ برتاؤ کرتے وقت لڑکیوں کی جذباتیت، یا والدین کے خلاف بغاوت اور ان سے مسلسل ناراضگی عام طور پر دو وجوہات میں سے ایک کی وجہ سے ہوتی ہے: یا تو اس کا تعلق اسلامی تعلیمات کے فہم کی کمی اور ایمان کی کمزوری سے ہوتا ہے، یا اس کا تعلق نفسیاتی مسائل سے ہے۔

پھر اسلامی تعلیمات کے فہم کی کمی اور ایمان کی کمزوری کے بھی دو اسباب ہو سکتے ہیں:

پہلا سبب: بچوں کے ذہنوں میں اسلام کے بیان کردہ والدین کے مقام و مرتبے کا غلط یا کوتاہ تصور، اور والدین کے حقوق سے نا آشنائی۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (کوئی بیٹا اپنے باپ کو بدلہ دے ہی نہیں سکتا الا کہ بیٹا اپنے والد کو غلامی کی حالت میں پائے اور بیٹا انہیں خرید کر آزاد کر دے۔) اسے مسلم (1510) نے روایت کیا ہے۔

ایسی ہی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (رب کی خوشنودی باپ کی رضا میں ہے، اور رب کا غضب باپ کے غضب میں ہے۔) اسے ترمذی (1899) نے روایت کیا ہے۔ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

بچوں اور والد کے درمیان خواہ کتنی ہی غلط فہمی ہو یا اختلاف ہو، پھر بھی حسن اخلاق اور حسن معاشرت لازمی ہے، والد کے ساتھ تب بھی حسن اخلاق سے پیش آیا جائے گا چاہے والد کسی اور دین کا پیروکار ہی کیوں نہ ہو، اور چاہے والد کی طرف سے اپنی اولاد کو اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنے پر بھی مجبور کیا جا رہا ہو تب بھی والد کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا لازم ہے، والد غیر مسلم ہو تو اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے والد کے اپنی اولاد پر حقوق ختم ہو جائیں گے، بلکہ والد کے مسلمان اولاد پر حقوق بدستور قائم رہیں گے اور مسلمان بچے اپنے کافر والد کا حق ادا کرتے رہیں گے، چنانچہ فرمان باری تعالی ہے:
وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ * وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
ترجمہ: ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے ۔ [14] اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ شریک بنائے جس کا تجھے علم نہ ہو تو تو ان کا کہنا نہ ماننا، ہاں دنیاوی امور میں ان کے ساتھ اچھی طرح زندگی بسر کرنا اور اس کی راہ چلنا جو میری طرف جھکا ہو ، تمہارا سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے تم جو کچھ کرتے ہو اس سے پھر میں تمہیں خبردار کر دوں گا۔ [لقمان : 14 - 15]

خلاصہ یہ ہے کہ:
والدین کے ساتھ گفتگو اور بات چیت ایسے نہیں کی جائے گی جیسے دیگر لوگوں سے کی جاتی ہے؛ کیونکہ ہمیں والدین کے سامنے چاروں شانے چت ہو جانے کا حکم ہے کہ ان سے نرم لہجے میں بات کریں، ان سے بد تمیزی نہ کریں، اور ان کے ساتھ بات کرتے ہوئے آواز بلند نہ کریں۔ والدین کو کسی بھی طرح سے تنگ نہیں کرنا لہذا آپ ان کے سامنے کوئی ایسا کام نہ کریں جو انہیں ناگوار ہو، یا آپ کسی ایسے کام کو ترک نہ کریں جو انہیں پسند ہو۔

اس حوالے سے فرمانِ باری تعالی ہے:
وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا * وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
ترجمہ: اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے تم اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات کرنا [23] اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کے پَر پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے۔ [الاسراء: 23 - 24]

ان آیات کریمہ میں والدین کے ساتھ عاجزی کو اس کمزور پرندے سے تشبیہ دی گئی ہے جب وہ کسی طاقتور پرندے سے ڈرتا ہے تو عاجزی کے ساتھ اپنے پروں کو بند کر لیتا ہے۔

ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے آیت کے حصے وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: مطلب یہ ہے کہ: ان کے پسندیدہ کاموں سے انکار نہ کرو۔

اس اثر کو امام بخاری رحمہ اللہ نے "الادب المفرد" میں "باب: والدین سے نرمی سے بات کرنا " کے تحت روایت کیا ہے۔ اور البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

دوم:

ایک اور اہم بات جو اس طرح کے مسائل کا سبب بنتی ہے جیسے کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے کہ بہت سے بچے اپنے موجودہ حالات کے مطابق ڈھل نہیں پاتے ، ان کی اس بات پر تربیت ہی نہیں ہوئی ہوتی کہ اللہ تعالی کی تقسیم پر راضی رہتے ہیں، اللہ تعالی نے انہیں جس قدر دنیاوی نعمتیں عطا کی ہیں انہی پر راضی رہیں، یہ بچے ہمیشہ ایسے لوگوں کو تکتے رہتے ہیں جنہیں ان سے زیادہ رزق عطا کیا گیا ہے، چنانچہ ایسے بچے ہمیشہ دوسروں کی برابری کی تمنا دل میں رکھتے ہیں، حالانکہ وہ خود بلکہ ان کے خاندان کے اندر بھی اس قدر طاقت اور صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ دوسروں کے برابر ہو سکیں، اب جس وقت انہیں اپنی من چاہی چیز نہیں مل پاتی تو اپنی موجودہ حالت پر ہمیشہ ناراضی کا اظہار کرتے ہیں، اور شکوہ کرتے ہیں، اللہ تعالی کی تقسیم پر راضی نہیں ہوتے۔

حالانکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَى
ترجمہ: اور آپ ان چیزوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھایئے جو ہم نے مختلف قسم کے لوگوں کو دنیوی زندگی کی زینت کے لئے دے رکھی ہیں تاکہ ان چیزوں کے ذریعے ہم انہیں آزمائش میں ڈالیں اور آپ کے پروردگار کا رزق ہی بہتر اور پائندہ تر ہے ۔ [طہ: 131]

اس آیت کی تفسیر میں الشیخ سعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
" یعنی دنیا اور اس کی متاع، مثلاً لذیذ ما کو لات و مشروبات، ملبوسات فاخرہ، آراستہ کئے ہوئے گھروں اور حسین و جمیل عورتوں سے حظ اٹھانے والوں کے احوال کو استحسان اور پسندیدگی کی نظر سے دوبارہ نہ دیکھیں، اس لئے کہ یہ سب کچھ دنیا کی خوبصورتی ہے اور اس سے صرف فریب خوردہ لوگ ہی خوش ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے رو گردانی کرنے والوں کی نظریں ہی انہیں پسندیدگی سے دیکھتی ہیں۔ آخرت سے قطع نظر کر کے، صرف ظالم لوگ ہی اس سے متمتع ہوتے ہیں۔ پھر یہ دنیا سب کی سب، تیزی سے گزر جاتی ہے، اپنے چاہنے والوں اور عشاق کو بے موت مار دیتی ہے۔ پس دنیا سے محبت کرنے والے لوگ اس وقت نادم ہوں گے جب ندامت کوئی فائدہ نہیں دے گی اور قیامت کے روز جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے تب انہیں اپنی بے مائیگی کا علم ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے تو اس دنیا کو فتنہ اور آزمائش بنایا ہے تاکہ معلوم ہو کہ کون اس کے پاس ٹھہرتا اور اس کے فریب میں مبتلا ہوتا ہے اور کون اچھے عمل کرتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيدًا جُرُزًا ترجمہ: جو کچھ زمین پر موجود ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ ہم ان کو آزمائیں کہ ان میں سے کون اچھے کام کرتا ہے۔ پھر جو کچھ اس زمین پر ہے ہم سب کو ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں۔ [ الکھف : 7- 8] وَرِزْقُ رَبِّكَ ترجمہ: اور تیرے رب کا رزق ،یعنی: دنیاوی رزق یعنی علم، ایمان اور عمال صالحہ کے حقائق، اسی طرح اخروی رزق یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور رب رحیم کے جوار رحمت میں سلامتی سے بھر پور زندگی۔ خَيْرٌ اپنی ذات و صفات میں اس زندگی سے بہتر ہے جو ہم نے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے وَأَبْقَىٰ ” اور پائیدار ہے ” کیونکہ اس کے پھل کبھی ختم نہ ہوں گے اور اس کے سائے دائمی ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ ترجمہ: مگر تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے [الاعلی: 16- 17] اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ بندہ جب دیکھے کہ اس کا نفس سرکشی اختیار کر کے دنیا کی زیب و زینت کی طرف مائل اور متوجہ ہے تو وہ اپنے رب کے اس رزق کو یاد کرے جو آئندہ زندگی میں اسے عطا ہونے والا ہے۔ پھر ان دونوں کے درمیان موازنہ کرے۔ " ختم شد
تفسیر سعدی: (516)

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (اس شخص کی طرف دیکھو جو تم سے نیچے ہو، اور اس کی طرف مت دیکھو جو تم سے اوپر ہے۔ کیونکہ اس طرح زیادہ ممکن ہے کہ آپ اپنے پاس موجود اللہ کی نعمت کو حقیر مت جانو۔) اسے مسلم (2963) نے روایت کیا ہے۔ اسی طرح کی روایت بخاری میں بھی ہے۔

سوم:

یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق باپ کو اپنی بیوی اور بچوں پر اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، نہ کہ اولاد کی خواہشات کے مطابق۔ بیوی یا بچوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ خاوند یا والد سے اس کی استطاعت سے زیادہ مطالبات کریں؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اضافی مطالبات کو پورا کرنے کا حکم نہیں دیا ہے۔ بلکہ اس کے خاندان اور بچوں کو اپنے آپ پر قابو رکھنا چاہیے اور اپنے مطالبات اور ضروریات کو اس حد تک محدود رکھنا چاہیے جو باپ برداشت کر سکے۔ ان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ والد کو تنگ کریں یا والد پر اس کی برداشت سے زیادہ بوجھ ڈالیں، یا والد کو یہ کہیں کہ والد اپنے فرائض میں کوتاہی کر رہا ہے، یا اپنے والد کے سامنے اپنی تنگی اور ترشی کو بیان کریں، یا والد ان کے لیے جو چیز لے کر آئے اس کی قدر نہ کریں ، یا والد ان پر جس قدر خرچ کرے تو اس پر عدم رضا مندی کا اظہار کریں۔

فرمانِ باری تعالی  ہے:

أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ وَأْتَمِرُوا بَيْنَكُمْ بِمَعْرُوفٍ وَإِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُ أُخْرَى * لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنْفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا
ترجمہ: مطلقہ عورتوں کو (ان کے زمانہ عدت میں) وہیں رکھو جہاں تم خود رہتے ہو، جیسی جگہ تمہیں میسر ہو، اور انہیں تنگ کرنے کے لئے ایذا نہ دو۔ اور اگر وہ حمل والی ہوں تو وضع حمل تک ان پر خرچ کرتے رہو۔ پھر اگر وہ تمہارے لیے (نومولود) کو دودھ پلائیں تو انہیں ان کی اجرت دو۔ اور باہمی مشورہ سے بھلے طریقے سے (اجرت کا معاملہ) طے کر لو۔ اور اگر تم نے (اجرت طے کرنے میں) ایک دوسرے کو تنگ کیا تو کوئی دوسری عورت دودھ پلائے گی۔ [6] خوشحال آدمی کو چاہیے کہ اپنی حیثیت کے مطابق نفقہ دے اور جسے رزق کم دیا گیا ہے وہ اسی کے مطابق خرچ دے گا جو اللہ نے اسے دیا ہے۔ اللہ کسی کو اسی کے مطابق تکلیف دیتا ہے جو اس نے اسے دیا ہے۔ اللہ جلد ہی تنگی کے بعد آسانی کر دے گا۔ [الطلاق: 6-7]

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

مِنْ وُجْدِكُمْ ابن عباس، مجاہد اور دیگر نے ان الفاظ کی تفسیر میں کہا ہے کہ : جس چیز کی تم استطاعت رکھتے ہو۔

{ لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ}یعنی: مالدار آدمی اپنے مال میں سے خرچ کرے۔ مطلب یہ ہے کہ بچے کا باپ یا پھر سرپرست اپنی وسعت کے مطابق بچے پر خرچ کرے۔

وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنْفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا مَا آتَاهَا ترجمہ: اور جس کا رزق محدود ہو اسے چاہیے کہ اللہ کی دی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرے، اللہ تعالی کسی کو اتنا ہی مکلف بناتا ہے جتنا اللہ تعالی نے کسی کو دیا ہو۔" یہ آیت اللہ تعالی کے دوسرے فرمان کے عین مطابق ہے: لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا ترجمہ: اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر کسی چیز کی ذمہ داری نہیں ڈالتا۔ [البقرہ: 286] " ختم شد

چہارم:

نفسیاتی اور رویے کی وجوہات کے حوالے سے، اس کا تعلق (pathological impulsivity) پیتھولوجیکل اضطراب سے ہے جو لڑکی کو مغلوب کر دیتا ہے اور لڑکی اس پر قابو پانے سے قاصر ہے۔ یہ جذبات عام طور پر (Anxiety & Stress disorders) اضطراب اور تناؤ کے عوارض کی صورت میں سامنے آتا ہے، اور (Borderline personality disorder) بارڈر لائن پرسنلٹی ڈس آرڈر کی صورت میں خود کو زیادہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔

اگر آپ کی بہن پر نصیحت، ایمان افروز گفتگو، تعلیم اور تادیب کار گر ثابت نہیں ہوتی، اور وہ بد تمیزی سے باز نہیں آتی اور والد کے ساتھ مناسب آداب نہیں دکھاتی ، آپ کی بہن والد محترم کے سامنے مطالبات پیش کرنے اور خواہشات کا بوجھ ڈالنے سے باز نہیں آتی ہے، تو ہم آپ کو نصیحت کرتے ہیں کہ ان کا کسی خاتون ماہر نفسیات سے چیک اپ کروائیں ۔ وہی اس کے معاملے کا جائزہ لے اور اس کے برے مزاج اور جذباتی ہونے کی وجوہات تلاش کرے، کیونکہ یہاں ضروری ہو چکا ہے کہ انسداد تناؤ کے ذرائع کا استعمال کیا جائے اور باہمی بات چیت و گفتگو کے ساتھ ساتھ اینٹی اینزائٹی جیسی دوائیں استعمال کی جائیں ، جیسے کہ تناؤ اور اضطراب کے عوارض کے لئے علمی سلوک تھراپی (CBT) یا بارڈر لائن پرسنلٹی ڈس آرڈر کی صورت میں جدلیاتی سلوک تھراپی (DBT) کو اپنایا جائے۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android