نماز ایسے کپڑوں میں ادا کرنے کا حکم جن پر نجاست خشک ہو چکی ہو

سوال 195117

کیا ایسے کپڑے جن پر نجاست لگی ہو اور وہ خشک ہو چکی ہو، ان میں نماز پڑھنا جائز ہے؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:
نماز کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ نمازی کے کپڑے نجاست سے پاک ہوں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ (المدثر: 3)
ترجمہ:’’اور اپنے کپڑے پاک رکھ۔‘‘

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حیض کے خون کے بارے میں ایک صحابیہ کو فرمایا:’’ اسے کھرچ دے، پھر پانی سے رگڑ کر دھو ڈالے، پھر اس پر اچھی طرح پانی بہائے  اور  پھر اسی کپڑے میں نماز پڑھ لے۔ ‘‘ اس حدیث کو امام بخاری: (227) اور مسلم : (291) نے  روایت کیا ہے۔

اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے صحابہ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ نے اپنے جوتے اتار کر بائیں جانب کر دئیے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی جب یہ دیکھا تو انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار دئیے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا:  ’’تمہیں جوتے اتارنے پر کس چیز نے مجبور کیا؟‘‘ انہوں نے کہا: ہم نے دیکھا کہ آپ نے اپنے جوتے اتار دئیے ہیں تو ہم نے بھی اتار دئیے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:’’یقیناً میرے پاس تو جبریل علیہ السلام آئے اور انہوں نے بتلایا تھا کہ آپ کے دونوں جوتوں میں گندگی یا کوئی نجاست لگی ہوئی ہے۔‘‘ سنن ابو داود: (650)

دوم:
نماز سے پہلے نجاست کو دور کرنا ضروری ہے، چاہے وہ خشک ہو یا گیلی؛ اس میں کوئی فرق نہیں۔ کیونکہ تمام شرعی دلائل عام ہیں اور وہ نماز کے لیے لباس کی پاکیزگی کو شرط قرار دیتے ہیں، ان میں نجاست کے خشک یا تر ہونے کی کوئی تفریق نہیں کی گئی۔

اور سابقہ حدیث میں جو الفاظ ہیں: ’’اسے کھرچ دے، پھر پانی سے رگڑ کر دھو ڈالے‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہیں کہ خشک نجاست بھی زائل کی جاتی ہے، کیونکہ کھرچنا اور رگڑنا خشک چیز کے بارے میں ہی ہوتا ہے۔

شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ سے پوچھا گیا:

’’اگر کپڑے پیشاب سے گیلے ہو جائیں اور پھر خشک ہو جائیں تو کیا وہ بدستور ناپاک رہیں گے؟ کیا اس جگہ کو دھونا ضروری ہے جہاں پیشاب لگا تھا؟ اور اگر کوئی شخص اس کپڑے کو چھو لے تو کیا اسے اپنا ہاتھ یا وہ جگہ دھونی چاہیے جہاں پیشاب والا کپڑا لگا ہے؟‘‘

انہوں نے جواب دیا:

’’کپڑوں سے نجاست صرف پاک پانی سے دھونے سے ہی دور ہوتی ہے، محض خشک ہونے سے نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حیض کے خون کے بارے میں فرمایا: ’’عورت اپنے کپڑے سے خون کھرچ دے، پھر اسے پانی سے مل کر دھوئے، پھر اس پر پانی بہائے ، پھر اسی کپڑے میں نماز پڑھ لے۔‘‘ متفق علیہ
لہٰذا نماز سے پہلے کپڑے سے نجاست کو دھونا واجب ہے۔

اور اگر کسی شخص نے تر نجاست کو چھوا ہو تو اسے وہ حصہ دھونا چاہیے جس سے اس نے چھوا تھا، کیونکہ گیلی نجاست منتقل ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر نجاست خشک ہو چکی ہو تو جس نے چھوا ہے اسے دھونا ضروری نہیں، کیونکہ خشک نجاست منتقل نہیں ہوتی۔‘‘
ماخوذ از: المنتقى من فتاوى الفوزان

واللہ اعلم۔

حوالہ جات

نجاست دور کرنا

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android