شراب پینا، اٹھانا، بیچنا اور خریدنا سب حرام ہے، اور اس کے بارے میں دس قسم کے لوگوں پر لعنت وارد ہوئی ہے۔ چنانچہ (سنن ترمذی: 1295، سنن ابی داود: 3674) میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: )رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کی وجہ سے دس افراد پر لعنت فرمائی: شراب بنانے والے پر، بنوانے والے پر، پینے والے پر، اٹھانے والے پر، جس کے لیے اٹھائی جائے اس پر، پلانے والے پر، بیچنے والے پر، اس کی قیمت کھانے والے پر، خریدنے والے پر، اور جس کے لیے خریدی جائے اس پر۔) اس حدیث کو صحیح ترمذی میں البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
اسی طرح شراب بنانا بھی جائز نہیں، نہ پینے کے لیے اور نہ علاج کے لیے؛ کیونکہ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے سنن ابو داود (3874) میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے بیماری بھی اتاری ہے اور دوا بھی، اور ہر بیماری کے لیے دوا بنائی ہے؛ لہٰذا علاج کرو، لیکن حرام چیز سے علاج نہ کرو۔‘‘ اس حدیث کو البانی ؒ نے صحیح الجامع: (1762) میں صحیح قرار دیا ہے۔
اور سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ طارق بن سوید جعفی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بنانے سے منع فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا: میں تو اسے دوا کے لیے بناتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ دوا نہیں بلکہ بیماری ہے۔‘‘ (صحیح مسلم: 1984)
یہ حدیث واضح طور پر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ شراب سے علاج کرنا حرام ہے، اور شراب دوا نہیں بلکہ خود ایک بیماری ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ یہ حدیث شراب بنانے اور اسے سرکہ بنانے کی حرمت کی دلیل ہے۔ اس میں صراحت ہے کہ شراب دوا نہیں؛ لہٰذا اس کے ذریعے علاج کرنا حرام ہے، کیونکہ یہ دوا نہیں۔ چنانچہ اس سے علاج کرنے والا گویا کسی جائز سبب کے بغیر اسے استعمال کر رہا ہے۔ ہمارے شافعی اصحاب کے نزدیک یہی صحیح موقف ہے۔ ‘‘ ختم شد
اسی طرح سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ نے تمہاری شفا ان چیزوں میں نہیں رکھی جنہیں اس نے تم پر حرام کیا ہے۔‘‘ اسے امام بخاری (5/ 2129)نے معلق روایت کیا ہے۔
لہٰذا اگر شراب پینے کے لیے، علاج کے لیے، یا دوا میں جزوی طور پر شامل کرنے کے لیے تیار کی جا رہی ہو تو طالب علم کے لیے اس کی تیاری میں شریک ہونا جائز نہیں۔ اسے چاہیے کہ اپنے موقف کا واضح اظہار کرے، اپنے دین پر ثابت قدم رہے، اور حرام کام میں شرکت سے انکار کر دے۔
البتہ اگر شراب صرف الکحل کی سائنسی خصوصیات جاننے کے لیے تیار کی جا رہی ہو، اور بعد میں اسے ضائع کر دیا جائے، نہ اسے پیا جائے اور نہ دوا میں استعمال کیا جائے، تو ایسی صورت میں اس کی تیاری کی گنجائش ہے؛ لیکن پھر بھی اسے چکھنا حرام ہوگا، اور چکھنے کا کام غیر مسلم افراد کے سپرد کیا جائے۔
لہٰذا طالب علم کے لیے اس عمل میں شرکت اسی وقت جائز ہوگی جب یہ شرط پوری کی جائے کہ:
1۔ تیار کی گئی شراب کو تلف کر دیا جائے۔
2۔ کسی کو اسے پینے نہ دیا جائے۔
3۔ اسے کسی دوا یا طبی استعمال میں شامل نہ کیا جائے۔
اگر انتظامیہ یہ شرائط قبول کر لے تو شرکت میں حرج نہیں، ورنہ طالب علم کو چاہیے کہ وہ اس سے انکار کر دے، خواہ اس کے نتیجے میں اس کے نمبر کم ہی کیوں نہ ہو جائیں۔ تمام مسلمان طلبہ کو بھی چاہیے کہ وہ اس سے اجتناب کریں اور جامعہ سے مطالبہ کریں کہ ان کے دینی اور اخلاقی اصولوں کا احترام کیا جائے۔
واللہ اعلم