اول:
ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے آپ کو اچھے اخلاق اور عمدہ صفات سے نوازا ہے۔ عمومی طور پر آپ نے اپنے بارے میں جو اوصاف بیان کیے ہیں، ان میں ہمیں ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی جسے تبدیل کرنے یا چھوڑ دینے کی ضرورت ہو۔ البتہ ہم صرف اس بات کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ ان تمام خوبیوں کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہر حق دار کو وہ حق دیا جائے جو شریعت میں مقرر کیا گیا ہے۔
معزز سائلہ! آپ یہ بات ذہن نشین کریں کہ ہمسایوں کے حقوق ان کی صفات اور حالات کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں، اور وہ مجموعی طور پر چار درجوں میں تقسیم ہیں:
- جو ہمسایہ مسلمان بھی ہو اور رشتہ دار بھی ہو، اس کے تین حق ہیں: ہمسائیگی کا حق، اسلام کا حق اور قرابت کا حق۔
- جو ہمسایہ مسلمان ہو مگر رشتہ دار نہ ہو، اس کے دو حق ہیں: ہمسائیگی کا حق اور اسلام کا حق۔
- جو ہمسایہ کافر ہو مگر رشتہ دار ہو، اس کے دو حق ہیں: ہمسائیگی کا حق اور قرابت کا حق۔
- اور جو ہمسایہ کافر ہو لیکن رشتہ دار نہ ہو، اس کا ایک حق ہے: ہمسائیگی کا حق۔
لہٰذا اس معاملے کا خاص خیال رکھنا چاہیے تاکہ ہر حق دار کو اس کا حق دیا جا سکے۔ اور جس ہمسائے کا حق جتنا زیادہ ہو، اس کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی زیادہ ضروری ہے۔
دوم:
ہمیں یہ بات معلوم ہے کہ ہمسایوں کے درمیان کبھی کبھار ناخوشگوار اور منفی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ لیکن اے ہماری سائلہ بہن! آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی اصل وجہ خود ہمسائیگی نہیں ہوتی، بلکہ اس کی وجہ اکثر ہمسایوں کے درمیان حد سے زیادہ میل جول اور اختلاط ہوتا ہے، اور یہ کہ ان کے باہمی تعلقات میں شرعی احکام کی رعایت نہیں کی جاتی۔
کیونکہ ہمسایوں کے درمیان بار بار ملاقاتیں اور زیادہ نشستیں بہت سے پردوں اور رکاوٹوں کو ختم کر دیتی ہیں اور بہت سی مروّت اور شرافت کو کم کر دیتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایسے مسائل پیدا ہوتے ہیں جن کا انجام آپس کی دوری اور قطع تعلق کی صورت میں نکلتا ہے، بلکہ کبھی اس سے بھی زیادہ سنگین حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔
اسی طرح ایک خرابی یہ بھی ہوتی ہے کہ ہمسایوں کے درمیان تعلقات میں شرعی حدود کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ مثال کے طور پر کوئی عورت اپنے گھر کے راز اپنی ہمسائی کو بتا دیتی ہے، یا کوئی ہمسائی ایسی ہوتی ہے جو ہمسایوں کی مشترکہ ملاقاتوں میں اپنے لباس کے ذریعے اپنی زینت ظاہر کرنے سے بھی نہیں جھجکتی۔ اس طرح کے معاملات انسانوں کو گناہوں میں مبتلا کر دیتے ہیں، اور ان کے نتیجے میں بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں جو باہمی بغض اور نفرت کا سبب بن جاتے ہیں، بلکہ کبھی اس سے بھی کہیں زیادہ سنگین نتائج سامنے آتے ہیں۔
سوم:
ہم اپنی سائل بہن کو چند باتوں کی نصیحت کرتے ہیں:
1۔ سب سے پہلے اپنے ہمسایوں کے بارے میں بد گمانی نہ رکھیں، کیونکہ تمام لوگ رویوں اور معاملات میں ایک جیسے نہیں ہوتے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ کبھی اجنبی ہمسایہ دور کے رشتہ دار سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے؛ کیونکہ جب کسی کو کوئی ضرورت پیش آئے یا اسے کوئی مشکل لاحق ہو تو سب سے پہلے وہ اپنے ہمسائے ہی کی طرف رجوع کرتا ہے۔
2۔ ہمیں شریعت میں ایسا کوئی حکم معلوم نہیں کہ ہمسائے کا ہمسائے پر یہ حق ہو کہ وہ اس کے گھر جا کر اس سے ملے جلنے کے لیے اس کی زیارت کرے۔ لہٰذا معاملہ ایسا نہیں جیسا آپ نے سمجھا کہ اپنے ہمسایوں کی زیارت کرنا آپ پر واجب ہے۔ بلکہ یہ ایک جائز اور مباح کام ہے، اگر آپ چاہیں تو کریں اور اگر چاہیں تو نہ کریں۔ آگے یہ بھی ذکر آئے گا کہ ہمسائے کے حقوق میں محض ہمسایہ ہونے کی وجہ سے اس کی زیارت کرنا اور اس کے ساتھ میل جول رکھنا شامل نہیں ہے۔ البتہ اگر وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرنا آپ پر حق بن جاتا ہے، یا اگر ان کے گھر میں کسی کا انتقال ہو جائے تو ان سے تعزیت کرنا آپ کے ذمہ ہوتا ہے۔
3۔ اگر آپ اپنے ہمسایوں کے گھر ملنے جائیں تو وہ اعتدال کے ساتھ ہو، نہ اس میں افراط ہو اور نہ تفریط، اور ملاقات شریعت کے عین مطابق ہو۔ اس میں نہ غیبت ہو، نہ چغلی، نہ کسی حرام چیز کو سننا ہو اور نہ دیکھنا۔ بلکہ وہ ملاقاتیں دینی یا دنیاوی ایسے امور کے لیے ہوں جو مفید اور فائدہ مند ہوں۔
4۔ اگر کسی ہمسائی کی ملاقات اور میل جول سے آپ کو کوئی نقصان پہنچے تو پہلے اس کی اصلاح کرنے کی کوشش کریں۔ اگر اصلاح ممکن نہ ہو تو اس ہمسائی سے میل جول چھوڑ دینے میں کوئی حرج نہیں۔ بلکہ اگر وہ کھلے عام کسی برائی کا ارتکاب کرتی ہو، یا آپ کو اپنے بارے میں فتنہ کا اندیشہ ہو تو اس سے میل جول ترک کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔
شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’اگر اس باہمی ملاقات سے اصلاح نہ ہو اور نہ ہی اس کے ذریعے برائی ختم ہو تو اسے ترک کرنا شرعی عمل ہے، کیونکہ ایسے تعلق میں کوئی فائدہ باقی نہیں رہتا۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’فتاوى الشيخ ابن باز‘‘ (25/378)
5۔ اور یہ بھی جان لیں کہ شریعت نے آپ پر ہمسایوں کے بارے میں کچھ حقوق لازم کیے ہیں، لہٰذا اپنی استطاعت اور طاقت کے مطابق ان کی پابندی کرنا ضروری ہے۔ ان حقوق میں سے چند یہ ہیں:
ا۔ اپنے ہمسایوں کے ساتھ احسان اور اچھا سلوک کریں، اور اپنی استطاعت کے مطابق قول اور عمل کے ذریعے ان کی عزت و تکریم کریں۔
چنانچہ ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے ہمسائے کی عزت کرے۔) اسے بخاری (5673) اور مسلم (48) نے روایت کیا ہے، جبکہ مسلم کے الفاظ ہیں: (وہ اپنے ہمسائے کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔)
اس میں درج ذیل امور بھی شامل ہیں:
1۔ انہیں کھانا پیش کرنا۔
چنانچہ ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اے ابو ذر! جب تم سالن پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ کر لو اور اپنے ہمسایوں کا خیال رکھو۔) اسے مسلم (2625) نے روایت کیا ہے۔
اس میں کافر ہمسایہ بھی شامل ہے۔
چنانچہ امام مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے گھر میں ایک بکری ذبح کی گئی۔ جب وہ آئے تو انہوں نے پوچھا: ’’کیا تم نے ہمارے یہودی ہمسائے کو بھی تحفہ بھیجا؟ کیا تم نے ہمارے یہودی ہمسائے کو بھی تحفہ بھیجا؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: (جبریل مجھے ہمسائے کے بارے میں مسلسل وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے۔) اسے ترمذی (1943) نے روایت کیا اور حسن کہا ہے، جبکہ علامہ البانی نے ’’صحیح ترمذی‘‘ میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
علامہ محمد بن علان صدیقی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’ اس حدیث میں حسنِ اخلاق اختیار کرنے اور اس کی ترغیب دینے کی واضح تاکید ہے؛ کیونکہ اچھے اخلاق سے دلوں میں محبت اور باہمی اُلفت پیدا ہوتی ہے، اور اسی کے ذریعے انسان کو طرح طرح کے فوائد حاصل ہوتے ہیں، ضروریات پوری ہوتی ہیں اور نقصانات سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہمسایہ دوسرے کے گھر سے اٹھنے والے کھانے کے دھوئیں سے متاثر ہوتا ہے، حالانکہ اس کے اپنے بچے چھوٹے ہوتے ہیں اور وہ اس طرح کا معیاری کھانا اپنے بچوں کو کھلانے کی سکت نہیں رکھتا۔ اس صورت میں بچوں کے دل میں خواہش پیدا ہو جاتی ہے، اور ان کی پرورش کرنے والے کے لیے یہ ایک اضافی مشقت اور تکلیف کا سبب بن جاتی ہے۔ بعض اوقات وہ شخص یتیم یا بیوہ بھی ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی تکلیف اور زیادہ بڑھ جاتی ہے اور حسرت و رنج میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ان تمام حالات کا آسان حل یہ ہے کہ اپنے پکے ہوئے کھانے میں سے کچھ حصہ انہیں بھی دے دیا جائے۔ لہٰذا ایک معمولی سی چیز کو روک لینا، جس کے نتیجے میں دوسروں کو اس قدر بڑی تکلیف پہنچے، نہایت ہی بری بات ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين‘‘ (2/438)
2۔ انہیں تحفہ دینا، چاہے وہ چیز بہت معمولی ہی کیوں نہ ہو۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: (اے مسلمان عورتو! کوئی عورت اپنی ہمسائی کے لیے تحفے کو حقیر نہ سمجھے، چاہے وہ بکری کے کھر ہی کیوں نہ ہو۔) اسے بخاری (2566) اور مسلم (1030) نے روایت کیا ہے۔
شیخ صالح آل الشیخ حفظہ اللہ کہتے ہیں:
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان: (وہ اپنے ہمسائے کی عزت کرے) اس میں کئی امور شامل ہیں، جیسے: ہمسائے کے ساتھ اچھے الفاظ میں بات کرنا، اس کے گھر والوں کی حفاظت کا خیال رکھنا، اس کی عزت و آبرو کی حفاظت کرنا، اس کے گھر کی طرف جھانکنے سے بچنا۔ اسی طرح اس میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کے عام حقوق کا خیال رکھا جائے، جیسے دونوں گھروں کے درمیان دیوار کے حقوق، ایسی کھڑکیاں جو ہمسائے کے گھر کی طرف کھلتی ہوں، یا مثال کے طور پر گاڑی کھڑی کرنے کی جگہ، یا بچوں کی طرف سے ہونے والی زیادتی، یا اس طرح کے دیگر امور۔ یہ سب ہمسائے کی عزت کرنے میں شامل ہے۔ اسی طرح یہ بھی شامل ہے کہ کھانے پینے اور لباس وغیرہ میں اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے، یعنی اگر اس کے پاس کھانا ہو تو اس میں سے اپنے ہمسائے کو بھی دے۔‘‘
ماخوذ از: ’’شرح الأربعين النووية‘‘ (حدیث نمبر 15 کی شرح)
ب۔ اپنے ہمسایوں کو قول اور عمل دونوں کے ذریعے اذیت اور زیادتی سے محفوظ رکھیں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے ہمسائے کو اذیت نہ دے۔)اسے بخاری (5672) اور مسلم (47) نے روایت کیا ہے۔
شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہمسائے سے زیادتی کرنا حرام ہے، خواہ وہ زیادتی قول کے ذریعے ہو یا عمل کے ذریعے۔ قول کے ذریعے اذیت دینے کی مثال یہ ہے کہ انسان ایسی آوازیں پیدا کرے جو ہمسائے کو پریشان اور بے چین کریں، جیسے کچھ لوگ ریڈیو، ٹیلی ویژن یا دیگر آواز پیدا کرنے والی چیزیں اونچی آواز سے چلاتے ہیں جس سے ہمسائے کو تکلیف ہوتی ہے۔ یہ جائز نہیں۔ حتیٰ کہ اگر کوئی قرآنِ کریم ہی کی تلاوت بلند آواز سے اس طرح کرے کہ اس کی آواز ہمسایوں کے لیے اذیت کا باعث بنے تو وہ ان پر زیادتی کرنے والا ہے اور اسے ایسا کرنا جائز نہیں۔
اور عمل کے ذریعے اذیت دینے کی مثال یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے ہمسائے کے دروازے کے قریب کوڑا پھینکے، یا اس کے دروازے کے راستے کو تنگ کرے، یا دروازے پر اس طرح دستک دے یا کوئی ایسا کام کرے جس سے اسے تکلیف پہنچے۔ اسی طرح اگر کسی کے پاس اپنے ہمسائے کی دیوار کے قریب کھجور کا درخت یا کوئی اور درخت ہو اور وہ اسے اس قدر پانی دے کہ اس پانی سے ہمسائے کو نقصان پہنچے تو یہ بھی ہمسائے کو اذیت دینے میں شامل ہے، اور ایسا کرنا جائز نہیں۔
لہٰذا ہمسائے کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے ہمسائے کو کسی بھی طرح کی اذیت پہنچائے۔ اگر وہ ایسا کرے تو وہ اس معاملے میں اہلِ ایمان کی صفات سے محروم ہو جاتا ہے، یعنی اس معاملے میں وہ مومنوں کے اوصاف پر قائم نہیں رہتا۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’شرح رياض الصالحين‘‘ (3/178)
یہ وہ باتیں ہیں جو اس مقام پر آپ کے لیے ہمسائے کے حقوق کے بیان کے سلسلے میں مناسب ہیں۔ لہٰذا اپنی استطاعت کے مطابق ان حقوق کو ادا کریں۔ آپ پر یہ لازم نہیں کہ آپ ہمسایوں سے بار بار ملاقاتیں کریں اور ان کے ساتھ کثرت سے میل جول رکھیں، بلکہ اگر آپ ایسا کریں تو اس میں اعتدال اختیار کریں، جیسا کہ ہم نے آپ کو نصیحت کی ہے۔
اور اپنے ہمسایوں میں سے اس شخص کو دیکھیں جو اخلاق کے لحاظ سے بہتر اور شریعت کی پابندی میں زیادہ مضبوط ہو، تو اس کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کریں؛ کیونکہ بہترین ہمسایہ وہ ہے جو اپنے ہمسائے کو دینی اور دنیاوی دونوں امور میں فائدہ پہنچائے۔
واللہ اعلم