4,228

دائمى بيمارى كى بنا پر روزے چھوڑے اور فديہ ادا كر ديا

سوال: 112096

ايك شخص كو دائمى بيمارى كى وجہ سے ڈاكٹروں نے روزہ نہ ركھنے كى تلقين كى، ليكن اس نے كسى دوسرے ملك كے ڈاكٹروں سے علاج كراويا اور پانچ برس بعد اللہ كے حكم سے شفايابى ہوئى.

سوال يہ ہے كہ اس نے پانچ برس تك روزے نہيں ركھے تھے كيا وہ شفايابى حاصل ہونے كے بعد ان روزوں كى قضاء كريگا يا نہيں ؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

" اگر تو وہ ڈاكٹر جنہوں نے اسے مستقل روزے نہ ركھنے كى نصيحت كى تھى قابل اعتماد مسلمان ڈاكٹر تھے، اور انہوں نے اسے بتايا كہ اس بيمارى سے شفايابى كى اميد نہيں تو اس شخص پر قضاء نہيں ہے، بلكہ اسے فديہ ميں كھانا دينا ہى كافى ہوگا، اور اب اسے مستقبل ميں روزے ركھنے ہونگے " انتہى

فضيلۃ الشيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ .

حوالہ جات

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android