6,768

ايك شخص چاليس ميل كى مسافت پر كام كرتا ہے كيا وہ نماز قصر كرے گا ؟

سوال: 10993

ميں ملازمت پر جانے كے ليے ڈيوٹى كے ايام ميں ( سوموار سے ليكر جمعہ تك ) گاڑى كے ذريعہ تقريبا روزانہ چاليس ميل كى مسافت طے كرتا ہوں روزانہ صبح اپنا علاقہ چھوڑ كر شام كو واپس آتا ہو، كيا ميرے ليے ڈيوٹى پر نماز قصر كرنى جائز ہے، اگرچہ ميں روزانہ سفر كروں ؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اگر انسان اپنے شہر سے تقريبا سو كلو ميٹر كا سفر كرے تو وہ سفر كے احكام قصر، اور روزہ افطار كرنا، اور نمازيں جمع كرنا، تين يوم موزوں پر مسح كرنا ان احكام پر عمل كر سكتا ہے، كيونكہ يہ مسافت سفر كى مسافت شمار ہو گى، اور اسى طرح جمہور علماء كے ہاں تقريبا اسى كلو ميٹر مسافت كا سفر كرنے والا شخص بھى مسافر ہو گا.

واللہ اعلم .

حوالہ جات

ماخذ

الشيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ - ماخوذ از كتاب: فتاوى اسلاميۃ ( 1 / 400 )

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android