"لومڑی کی کھال اس کے گوشت کی طرح نجس ہے؛ کیونکہ لومڑی درندہ جانور ہے، اور درندوں سے عمومی طور پر منع کیا گیا ہے؛ اس کی دلیل سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (ہر کچلی والے درندے کا گوشت کھانا حرام ہے) اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
اسی طرح ابو ملیح بن اسامہ اپنے والد اسامہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے درندوں کی کھال سے منع فرمایا۔) اس حدیث کو امام احمد، ابو داود، نسائی، اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے یہ بھی اضافہ ذکر کیا ہے کہ: (درندوں کی کھال پر بیٹھنا بھی منع ہے۔)
سیدنا معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ انہوں نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کی جماعت سے کہا: (کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے چیتے کی کھال پر بیٹھ کر سواری کرنے سے منع فرمایا ہے؟ تو انہوں نے کہا: جی بالکل جانتے ہیں۔) اس حدیث کو امام احمد اور ابو داود نے روایت کیا ہے۔
ایک روایت میں سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: (میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں مجھے بتلاؤ کہ کیا آپ جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے درندے کی کھال پہننے اور اس پر بیٹھ کر سواری کرنے سے منع فرمایا ہے؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں جانتا ہوں۔) اس حدیث کو ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے۔
ایسے ہی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (ایسے لوگوں کے ہمراہ فرشتے نہیں ہوتے جن میں چیتے کی کھال ہو) اس حدیث کو ابو داود نے روایت کیا ہے۔
تو یہ تمام روایات ایسے جانور کی کھال کو استعمال کرنے سے روکتی ہیں جن کا گوشت نہیں کھایا جاتا؛ کیونکہ اگر انہیں استعمال میں لایا جائے گا تو تکبر پیدا ہو گا۔
اللہ تعالی عمل کی توفیق دے، اور ہمارے نبی محمد، آپ کی آل اور تمام صحابہ کرام پر رحمت و سلامتی نازل فرمائے۔" ختم شد
دائمی کمیٹی برائے فتاوی و علمی تحقیقات
الشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ آل الشیخ الشیخ عبد اللہ غدیان الشیخ صالح الفوزان الشیخ بکر ابو زید۔
فتاوی دائمی فتوی کمیٹی: (24/29)
واللہ اعلم