سوموار 12 ذو القعدہ 1445 - 20 مئی 2024
اردو

شرعی اور طبی فوائد حاصل کرنے کے لیے روزہ رکھنے کا حکم

349929

تاریخ اشاعت : 26-04-2022

مشاہدات : 2106

سوال

مشہور ہے کہ 10 یا کچھ زائد دنوں تک اگر صرف پانی پی کر روزہ رکھا جائے تو اس کے بہت سے جسمانی فوائد ہیں، تو کیا یہ عمل وصال ہو گا؟ کہ میں شرعی طور پر پانی سے روزہ رکھتے ہوئے سحری یا افطاری نہیں کروں گی صرف پانی ہی پینا ہے، تو کیا یہ جائز ہو گا؟ واضح رہے کہ اس روزے کے دوران آنتوں کا عمل بالکل کالعدم ہو جاتا ہے، اور ہر چند دن کے بعد مقعد کے ذریعے دوائی جسم میں داخل کی جاتی ہے، تو کیا یہ جائز ہے؟ مجھے طبی طور پر کوئی مسئلہ نہیں ہے، میں تو صرف اس روزے کے فوائد حاصل کرنا چاہتی ہوں۔

جواب کا خلاصہ

1-اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ آپ روزہ اللہ تعالی کی عبادت کے لیے رکھیں اور ساتھ طبی فوائد حاصل کرنے کی نیت بھی کریں، تاہم روزے دار پر لازم ہے کہ عبادت اصل ہدف ہونا چاہیے؛ عبادت کے علاوہ کسی اور چیز کو ہدف مت بنائے۔ 2-محض کھانے سے رکنا اور پانی پر گزارا کرنا شرعی طور پر روزہ نہیں ہوتا، اور نہ ہی یہ ممنوعہ وصال میں آتا ہے۔

الحمد للہ.

اول:

روزہ رکھتے ہوئے ثواب اور طبی فوائد دونوں کے حصول کی نیت

اگر کوئی شخص رضائے الہی کے لیے روزہ رکھے اور ساتھ ہی روزے کے طبی فوائد حاصل کرنے کی نیت بھی کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ مباح فوائد کی نیت سے عبادت مکمل طور پر کالعدم نہیں ہو جاتی، جیسے کہ اللہ تعالی نے حاجی کو سفر حج کے دوران تجارت اور روزی کمانے کی اجازت دی ہے۔

فرمانِ باری تعالی ہے:
 اَلْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَاأُولِي الْأَلْبَابِ * لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ  ترجمہ: حج کے مہینے مقرر ہیں اس لئے جو شخص ان میں حج لازم کر لے وہ جنسی چھیڑ چھاڑ ، گناہ اور لڑائی جھگڑے سے بچتا رہے تم جو نیکی کرو گے اس سے اللہ تعالی باخبر ہے اور اپنے ساتھ سفر خرچ لے لیا کرو، سب سے بہتر توشہ اللہ تعالی کا ڈر ہے اور اے عقلمندو! مجھ سے ڈرتے رہا کرو۔ [197] تم حج کے دوران اپنے پروردگار کا فضل (رزق وغیرہ) تلاش کرو تو کوئی مضائقہ نہیں۔ پھر جب تم عرفات سے واپس آؤ تو مشعر الحرام (مزدلفہ) پہنچ کر اللہ کو اس طرح یاد کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت کی ہے۔ ورنہ اس سے پہلے تم راہ بھولے ہوئے تھے۔ [البقرۃ: 197 - 198]

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ: "دورِ جاہلیت میں ذوالمجاز اور عکاظ دونوں لوگوں کے تجارتی میلے تھے، پھر جب اسلام کی دعوت پہنچی تو انہیں حج میں تجارت اچھی محسوس نہ ہوئی، تو پھر یہ آیات نازل ہوئیں:   لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ یعنی تم حج کے موسم میں اپنے رب کا فضل تلاش کرو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔" اس حدیث کو امام بخاری: (1770) نے روایت کیا ہے اور اس پر باب کا عنوان یہ لکھا کہ:" باب ہے حج کے موسم میں تجارت اور دورِ جاہلیت کے بازاروں میں خرید و فروخت کا"

اسی طرح نوجوان کو شہوت توڑنے اور کم کرنے کے لیے روزہ رکھنے کی اجازت دی گئی۔

جیسے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جس کے پاس شادی کے اخراجات کی طاقت ہے تو وہ شادی کر لے؛ کیونکہ یہ آنکھوں کو جھکانے اور شرمگاہ کو محفوظ کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، اور جس کے پاس طاقت نہ ہو تو وہ روزے رکھے، روزہ اس کی شہوت کو توڑ دے گا۔) اس حدیث کو امام بخاری: (5066) اور مسلم : (1400)نے روایت کیا ہے۔

آپ سے گزارش ہے کہ آپ سوال نمبر: (220996 ) کا جواب بھی ملاحظہ فرمائیں۔

تاہم روزے دار پر لازم ہے کہ اپنا بنیادی مقصد عبادت بنائے کوئی اور چیز ہدف نہ ہو، جیسے کہ اس کی تفصیل سوال نمبر: (228454) کے جواب میں بیان ہو چکی ہے۔

دوم:

روزے میں ممنوعہ وصال کیا ہے؟

ممنوعہ وصال یہ ہے کہ روزے دار کئی دنوں تک دن اور رات میں کسی بھی وقت کچھ نہ کھائے پیے، نہ ہی کوئی سحری ہو اور نہ ہی افطاری، چنانچہ جب روزے دار افطاری کے وقت کھانا کھا لے یا سحری کے وقت پانی ہی پی لے تو اس کا وصال نہیں ہو گا۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (37757 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔

اگر معاملہ ایسے ہی جیسے سوال میں ذکر ہوا ہے کہ کھانا نہیں کھانا اور صرف پانی پر اکتفا کرنا ہے تو یہ سرے سے شرعی روزہ ہی نہیں ہے، چہ جائیکہ اسے روزوں میں وصال شمار کریں؛ کیونکہ یہاں تو سرے سے روزہ ہے ہی نہیں کیونکہ یہ تو پانی مسلسل پی رہا ہے۔

تاہم یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ اس انداز سے کھانے سے رک جانا اگرچہ وصال میں شمار نہیں ہو گا، لیکن کھانا نہ کھانے کی وجہ سے بہت سے واجبات میں کمی آئے گی، مثلاً: پانچوں نمازوں کی ادائیگی میں کوتاہی آئے گی، انسان پر دیگر لوگوں کے حقوق میں کمی ہو گی مثلاً: ملازمت پر ذمہ داریاں نہیں نبھا سکے گا، تو ان وجوہات کی بنا پر کھانے سے دور رہنا اور پانی پر اکتفا کرنا منع ہو جائے گا۔

لیکن اگر یہ عمل کسی طبی ضرورت کی بنا پر ہو اور انسان شرعی حقوق اور لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کا شکار نہ ہو -جیسے کہ غیر اسلامی مذاہب میں ہوتا ہے- تو پھر اس سے نہیں روکا جائے گا؛ ساتھ اس چیز کو بھی مد نظر رکھیں گے کہ یہ روزہ نہیں ہو گا، نہ ہی ایسے عمل قرب الہی کا ذریعہ بن سکتے ہیں، یہ تو محض ایک طریقہ علاج ہے۔

سوم:

روزے دار کا مقعد کے ذریعے دوائی داخل کرنے کا حکم

علمائے کرام روزے دار کے بذریعہ مقعد دوائی داخل کرنے کے متعلق اختلاف رائے رکھتے ہیں کہ کیا اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ تو راجح موقف یہ ہے کہ اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اس کی تفصیلات پہلے متعدد جوابات میں گزر چکی ہیں۔ اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (37749 ) اور (38023 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔

سوال میں مذکور کھانے سے پرہیز کرنے والے شخص کا اس حکم سے کوئی تعلق نہیں ہے؛ کیونکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ سرے سے روزے دار ہے ہی نہیں، چنانچہ اگر بذریعہ مقعد دوائی طبی بنیادوں پر لینے کی ضرورت ہو تو اسے اس عمل سے نہیں روکا جائے گا۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب