اسلام سوال و جواب کو عطیات دیں

"براہ کرم ویب سائٹ کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے دل کھول کر تعاون کریں۔ "

مسافر کو روزہ رکھنے یا نہ رکھنے میں تردد تھا، پھر فجر طلوع ہونے کے بعد روزہ رکھنے کا عزم کر لیا

31-05-2017

سوال 249495

کئی سال پہلے میں اپنے بھائی اور بھابھی کے ساتھ رمضان میں عمرہ کرنے گئی، مجھے یہ نہیں پتا تھا کہ وہ سفر میں روزہ رکھیں گے یا نہیں؟ اور اس کے بارے میں ان سے پوچھتے ہوئے مجھے شرمساری محسوس ہوئی تو میں نے دل میں کہا: اگر انہوں نے روزہ رکھ لیا تو میں بھی رکھ لوں گی اور اگر انہوں نے روزہ نہیں رکھا تو میں بھی روزہ نہیں رکھوں گی، پھر فجر طلوع ہو گئی اور میں ابھی تک فیصلہ نہیں کر پائی تھی کہ روزہ رکھوں یا نہ رکھوں! پھر مجھے بھائی نے بتلایا کہ انہوں نے روزہ رکھا ہے، اس پر میں نے روزہ رکھنے کی نیت کر لی لیکن اس وقت تک سورج بھی طلوع ہو چکا تھا۔
پھر میں نے چند دن پہلے پڑھا کہ روزے کیلیے فجر سے پہلے پختہ نیت کرنا ضروری ہوتا ہے، جس پر میں نے فیصلہ کیا کہ اس دن کا روزہ دوبارہ رکھوں گی اور میں نے روزہ رکھ لیا۔ اب سوال یہ ہے کہ مجھ پر اس کے ساتھ کفارہ بھی لازم ہے یا نہیں؟ کیونکہ یہ پانچ سال پرانا روزہ تھا۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ : مجھے یاد پڑتا ہے کہ میری بہن بھی میرے ساتھ روزہ رکھنے یا نہ رکھنے میں متردد تھی، تو کیا میں اسے بتلا دوں یا نہیں کہ تم پر فلاں روزہ رکھنا واجب ہے؟ کیونکہ مجھے اپنی بہن کے متردد ہونے کے متعلق شک ہے یقین نہیں ہے، اور مجھے خدشہ ہے کہ کہیں وہ مجھے وسوسہ ہونے کا طعنہ نہ دے دے!

جواب کا متن

الحمد للہ.

فرض روزے کے صحیح ہونے کیلیے فجر سے پہلے رات کے وقت ہی نیت کرنا ضروری ہے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جو شخص فجر سے پہلے روزے کا پختہ ارادہ نہ کرے تو اس کا روزہ  نہیں ہے)
ابو داود : (2454) ، ترمذی:  (730) اور نسائی: (2331) نے اسے روایت کیا ہے۔

اور نسائی کی ایک روایت میں  ہے: (جو شخص فجر سے پہلے رات کے وقت روزے کی نیت نہ کرے تو اس کا روزہ  نہیں ہے) اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے "صحیح ابو داود " میں صحیح قرار دیا ہے۔

لہذا جو شخص فجر کے طلوع ہونے کے بعد بھی روزہ رکھنے یا نہ رکھنے میں متردد ہو تو اب اس کا روزہ رکھنا صحیح نہیں ہو گا۔

چنانچہ "اسنى المطالب" (1/411) میں ہے کہ:
"روزے کیلیے پختہ اور معین دن کی نیت ہونا لازمی امر ہے جس طرح نماز کی [معین وقت کے ساتھ ]نیت ضروری ہوتی ہے، نیز حدیث میں بھی ہے کہ: (اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہوتا ہے)۔۔۔ [واجب روزے کی ] تمام صورتوں میں طلوعِ فجر سے پہلے نیت کرنا ضروری ہے، چاہے روزے نذر کے ہوں یا قضا یا کفارے کے" انتہی

اسی طرح شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر کسی کو روزہ نہ رکھنے کی شرعی اجازت ہو اور وہ یکم رمضان کو  کہے: مجھے صبح روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کی اجازت ہے، لیکن طلوعِ فجر کے بعد وہ روزے کی نیت کر لیتا ہے تو اس کا روزہ صحیح نہیں ہو گا؛ کیونکہ اس کی نیت پختہ نہیں تھی" انتہی
"الشرح الممتع" (6/362)

اس بنا پر : اس دن کے روزے کی قضا آپ کے ذمے ہے اور آپ نے روزہ رکھ کر اچھا کیا۔

آپ پر کفارہ لازمی نہیں ہے؛ کیونکہ کفارہ صرف اس وقت لاگو ہوتا ہے جب کوئی مقیم شخص رمضان میں دن کے وقت جماع کر لے۔

مزید کیلیے آپ سوال نمبر: (49750) کا جواب ملاحظہ کریں۔

اور اگر آپ کی بہن نے بھی تردد کی حالت میں ہی روزہ رکھا تھا تو اس پر بھی اس روزے کی قضا لازمی ہے، اور آپ انہیں یہ بتلا دیں۔

واللہ اعلم .

روزے
اسلام سوال و جواب ویب سائٹ میں دکھائیں۔