اسلام سوال و جواب کو عطیات دیں

"براہ کرم ویب سائٹ کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے دل کھول کر تعاون کریں۔ "

اذكار و دعاؤں ميں معين عدد كى تحديد

10-02-2009

سوال 22457

اگر شريعت ميں تحديد نہ كى گئى ہو تو كيا اذكار اور دعاؤں كى تحديد كرنا جائز ہے، مثلا يا لطيف ( 29 ) بار اور يا قھار ( 306 ) اور حسبنا اللہ و نعم الوكيل ( 450 ) بار الخ كہنا يا كہ ايسا كرنا صحيح نہيں، كيونكہ كتاب و سنت ميں مجھے تو اس كے استعمال كے جواز كى كوئى دليل نہيں ملى ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

يہ كلمات اور اذكار اس محدود عدد ميں ذكر كرنے كى كوئى اساس اور دليل نہيں اور نہ ہى صحيح ہيں، غالبا يہ بعض بدعتى قسم كے لوگوں كى بلكہ صوفيوں كى جانب سے تحديد كى گئى ہے وہ اپنى جانب سے اذكار اور ورد كى تحديد كرتے ہوئے كہتے ہيں:

اگر كوئى يہ كلمات اتنى بار پڑھے تو اسے اتنا اجروثواب حاصل ہو گا اور اس كا فلان كام ہو جائيگا، اور اس كى حفاظت ہو گى، اور جو فلاں ورد كريگا اسے اتنے لاكھ نيكياں مليں گى.

يہ معلوم ہونا چاہيے كہ يہ ان امور ميں شامل ہے جن كا وحى كے بغير جاننا ممكن نہيں، اس ميں قاعدہ اور اصول يہ ہے كہ اذكار اور دعائيں دو قسموں پر مشتمل ہيں:

پہلى قسم:

وہ اذكار جو كتاب و سنت ميں وارد ہيں اور كسى وقت يا جگہ يا حالت كے ساتھ مقيد ہيں، تو يہ قسم اسى طرح ادا كى جائيگى جس طرح وہ وارد ہے اور جس جگہ اور جس وقت اور حالت يا الفاظ ميں بيان ہوا ہے وہيں اور اسى طرح ادا كى جائيگى يا كسى ہيئت ميں آئى ہے وہ بغير كسى كمى و زيادتى كے اسى طرح دعا پڑھى جائيگى.

دوسرى قسم:

ہر وہ دعا اور ذكر جو مطلق ہے اور اسے كسى وقت يا جگہ كے ساتھ مقيد نہيں كيا گيا: اس كى دو حالتيں ہيں:

پہلى حالت:

وہ دعا اور ذكر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت اور وارد ہو تو وہى الفاظ ادا كيے جائينگے اور اس كے ليے كوئى وقت يا جگہ يا عدد كى تحديد نہيں كى جائيگى.

دوسرى حالت:

وہ ذكر اور دعا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے تو ثابت نہ ہو بلكہ دعا كرنے والا شخص اپنى جانب سے ادا كرے يا پھر وہ سلف سے منقول ہو تو بندے كے ليے يہ دعا اور ذكر پانچ شروط كے ساتھ جائز ہو گا:

1 - وہ بہتر اور اچھے الفاظ اختيار كرے، كيونكہ يہ بندے كا اپنے رب اور معبود كے ساتھ مناجات كا مقام ہے.

2 - وہ الفاظ عربى معانى كے موافق ہوں.

3 - وہ دعاء كسى بھى شرعى محذور و ممانعت سے خالى ہو، مثلا يہ كہ وہ اللہ كے علاوہ كسى دوسرے سے مدد طلب كرنے وغيرہ پر مشتمل نہ ہو.

4 - وہ مطلقا ذكر اور دعاء ميں سے ہو اسے كسى وقت يا جگہ يا حالت كے ساتھ مقيد نہ كيا جائے.

5 - وہ اسے سنت اور طريقہ نہ بنا لے كہ اس كى مواظبت اور التزام كرے اور تسلسل كے ساتھ ادائيكى كرنا شروع كر دے. اھـ

ماخوذ از كتاب: تصحيح الدعاء للشيخ بكر ابو زيد ( 42 ) كچھ تصرف كے ساتھ.

اوپر جو كچھ بيان ہوا ہے اس كى بنا پر سوال ميں مذكور الفاظ تو شرعى ہيں اور كتاب و سنت ميں وارد ہيں، ليكن انہيں اس تعداد ميں محدود كرنا بدعت ہے جس كا التزام كرنا صحيح نہيں، بلكہ انسان دعاء كے دوران ان صفات كا واسطہ دے كر اپنے رب سے مناجات كرے اور اس كے علاوہ باقى سب اسماء اللہ كے ساتھ دعا مانگے، كسى اسم كے معين عدد اور جگہ كى اپنى جانب سے تحديد مت كرے.

بلكہ جو شريعت ميں مخصوص اور محدود وارد ہو اس پر ہم التزام كريں، اور جو وارد نہيں اسے ہم اپنى جانب سے مخصوص نہيں كر سكتے، كيونكہ يہ مقام نبوت پر تعدى اور ظلم و زيادتى شمار ہو گى.

واللہ اعلم .

بدعت
اسلام سوال و جواب ویب سائٹ میں دکھائیں۔