اسلام سوال و جواب کو عطیات دیں

"براہ کرم ویب سائٹ کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے دل کھول کر تعاون کریں۔ "

تکلیفی احکام اور ان کی مثالیں

22-06-2018

سوال 180341

فرض کا مطلب لازمی کرنا، مستحب کا مطلب کہ اس کام کو کرنا لازمی نہیں ہے، مباح کا مطلب کہ یہ اختیاری ہے، مکروہ کا مطلب کہ اس کام کو کرنا اچھا نہیں ہے، اور حرام کا مطلب کہ اس کام سے روکا گیا ہے، مجھے ان تمام کی مثالیں چاہییں، برائے مہربانی ان کی مثالیں بتلا دیں۔

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

واجب: اس کام کو کہتے ہیں جس کو لازمی کرنے کا شریعت نے حکم دیا ہو۔

اس کی مثال : پانچوں نمازیں، رمضان کے روزے، صاحب نصاب شخص  پر زکاۃ ادا کرنا، اور حج بیت اللہ کی استطاعت رکھنے والے کے لیے حج کرنا۔

واجب کو فرض، فریضہ ، ضروری، اور لازمی عمل بھی کہتے ہیں، اسے بطور اطاعت گزاری بجا لانے والے کو ثواب دیا جاتا ہے اور نہ کرنے والا سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔

دوم:

مندوب: یہ ایسا کام ہوتا ہے جس کے کرنے کا شریعت نے لازمی طور پر حکم نہیں دیا ہوتا۔

مثلاً: قیام اللیل، نمازوں کے ساتھ سنت مؤکدہ، اسی طرح فرائض کے علاوہ نوافل، ہر ماہ میں تین روزے رکھنا، شوال کے چھ روزے، فقیروں پر نفل صدقہ کرنا، مختلف اذکار اور ورد کی پابندی کرنا۔

مندوب کو مستحب، سنت، مسنون اور نفل بھی کہا جاتا ہے، اس پر بطور اطاعت گزاری عمل کرنے والے کو ثواب دیا جاتا ہے اور اگر کوئی نہ کرے تو اس کو سزا نہیں دی جاتی۔

سوم:

حرام اور ممنوع: یہ ایسا کام ہوتا ہے جس سے لازمی طور پر بچنے کا شریعت نے حکم دیا ہوتا ہے۔

مثلاً:  زنا، سود، شراب نوشی، والدین کی نافرمانی، ڈاڑھی مونڈنا، خواتین کا بے پردگی کرنا۔

حرام کام بطور اطاعت گزاری چھوڑنے والے کو ثواب دیا جاتا ہے اور کرنے والا سزا کا مستحق ہوتا ہے۔

چہارم:

مکروہ:  یہ ایسا کام ہوتا ہے جس سے شریعت نے لازمی طور پر بچنے کا حکم نہیں دیا ہوتا۔

مثلاً: بائیں ہاتھ سے لینا  دینا، خواتین کا جنازے کے ساتھ جانا، عشا کی نماز کے بعد باتیں کرنا، کندھے پر کپڑے کے بغیر ایک ہی چادر میں نماز ادا کرنا، نماز فجر کے بعد سورج طلوع ہونے

تک نفل ادا کرنا، عصر کی نماز کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک  نفل ادا کرنا۔

مکروہ پر عمل سے بطور اطاعت گزاری اجتناب کرنے والے کو ثواب دیا جاتا ہے اور اسے کرنے والے کو سزا نہیں دی جاتی۔

پنجم:

مباح، حلال، اور جائز: یہ ایسا کام ہوتا ہے جس کے متعلق ذاتی طور پر شریعت  میں حکم یا ممانعت کچھ نہیں ہوتا۔

مثلاً: کھانا پینا، خرید و فروخت، سیاحتی سفر، تلاش معاش، رمضان میں رات کے وقت بیویوں کے ساتھ دل لگی کرنا وغیرہ۔

مباح کی تعریف میں "ذاتی طور پر" اس لیے کہا گیا ہے کہ ایسا ممکن ہے کہ ان چیزوں کے ساتھ دیگر امور کے منسلک ہونے کی وجہ سے یہ واجب یا حرام میں شامل ہو جاتے ہیں۔

مثلاً: پانی خریدنے کے متعلق اصل حکم یہ ہے کہ مباح ہے، لیکن اگر پانی کی خریداری کے ساتھ فرض نماز کے لیے وضو منسلک ہو جائے تو پھر یہ واجب ہو جائے گا؛ کیونکہ جس کے ذریعے سے واجب کی ادائیگی ہو تو وہ ذریعہ بھی واجب ہو جاتا ہے۔

اسی طرح سیاحتی سفر کے متعلق اصل یہ ہے کہ مباح ہے، لیکن اگر یہی سفر کافروں کے ممالک کی جانب ہو جہاں پر فتنے، بے حیائی اور فحش کام عام ہوتے ہیں تو پھر ان علاقوں میں سفر کرنا حرام ہو جائے گا؛ کیونکہ سفر کی حرمت حرام کام میں ملوث ہونے سے رکاوٹ بنے گی۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ کتاب: "روضة الناظر وجنة المناظر"  از ابن قدامہ (1 /150-210) اور اسی طرح "البحر المحيط" از زرکشی ( 1 /140-240)  ایسے ہی " شرح الأصول من علم الأصول " از ابن عثیمین ص 46-68 کا مطالعہ کریں۔

واللہ اعلم.

اصول فقہ
اسلام سوال و جواب ویب سائٹ میں دکھائیں۔